Showing posts with label Muhammad Nasiruddin al-Albani. Show all posts
Showing posts with label Muhammad Nasiruddin al-Albani. Show all posts

Monday, May 20, 2013

Gazwa-e-Uhad ka aik waqia

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب غزوہ اُحد کا دن تھا تو اہل مدینہ سخت تنگی و پریشانی میں مبتلا ہوگئے (کیونکہ)، انہوں نے (غلط فہمی اور منافقین ک...ی افواہیں سن کر) سمجھا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (العیاذ باﷲ) شہید کر دیا گیا ہے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں چیخ و پکار کرنے والی عورتوں کی کثیر تعداد (جمع) ہو گئی، یہاں تک کہ انصار کی ایک عورت پیٹی باندھے ہوئے باہر نکلی اور اپنے بیٹے، باپ، خاوند اور بھائی (کی لاشوں کے پاس) سے گذری، (راوی کہتے ہیں:) مجھے یاد نہیں کہ اس نے سب سے پہلے کس کی لاش دیکھی۔ پس جب وہ ان میں سے سب سے آخری لاش کے پاس سے گزری تو پوچھنے لگی : یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا : تمہارا باپ، بھائی، خاوند اور تمہارا بیٹا ہے۔ (جوکہ شہید ہو چکے ہیں) وہ کہنے لگی : (مجھے صرف یہ بتاؤ کہ) رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس حال میں ہیں؟ لوگ کہنے لگے:آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمہارے سامنے موجودہیںیہاں تک کہ اس عورت کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچا دیا گیا تو اس عورت نے (شدتِ جذبات سے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کرتہ مبارک کا پلو پکڑ لیا اور عرض کیا : یا رسول اﷲ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جب آپ سلامت ہیں تو مجھے اور کوئی دکھ نہیں (یعنی یا رسول اﷲ! آپ پر میرا باپ،بھائی، خاوند اوربیٹاسب کچھ قربان ہیں)۔
.
Enhanced by Zemanta

Tuesday, May 14, 2013

Hadith: جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے

 
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیے کہ خیر کی بات کہے یا خاموش رہے.

البخاری.......حفظ اللسان ، رقم.....٦٤٧٠

Enhanced by Zemanta

گفتــگو کے متعلـــق چــند آداب و سنتــیں، و تنبـیــہات



عن ابی هریره قال قال رسول الله صلی الله علیه وسلم ان العبد لیتکلم بالکمة من رضوان الله لا يلقی لها بالا يرفع الله بها درجات و ان العبد ليتكلم باالكمة من سخط الله لا يلقی لها بالا يهوی بها فی جهنم."

حضرت ابو ہریره رضی الله تعالی عنه فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ بنده بعض وقت زبان سے ایسی بات نکالتا ہے جس سے الله تعالی خوش ہوجاتے ہیں لیکن وه بنده اس حیثیت سے واقف نہیں ہوتا اور الله تعالی اس بات کے بدلہ میں اس کے درجات کو بلند کردیتا ہے، اور بعض اوقات بنده ایسی بات کہتا ہے جس سے الله رب العزت ناراض ہوجاتے ہیں اور وه اس سے واقف نہیں ہوتا اور وه بات اس کو جہنم میں لے جاتی ہے."
... «بخاری شریف»

«۱»جو شخص الله پر اور آخرت پر ایمان رکهتا ہو اسے چاہیۓ کہ وه اچهی بات کہے یا خاموش رہے.
«بخاری ج۲»

«۲»آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا جو شخص زبان اور شرمگاه کی (حفاظت) کی ذمہ داری دے گا میں اس کےلۓ جنت کی ذمہ داری دوںگا.
«بخاری ج۲»

«۳»ایک حدیث میں آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ جہنم سے بچو خواه آدهی کهجور ہی(کسی کو صدقہ کرکے) ہوسکے اور اگر کسی کو یہ بهی میسر نہ ہو تو اچهی بات کے ذریعے (جہنم سے بچے).
«بخاری ج۲»
(اس سے معلوم ہوا کہ خوش اخلاق کی گفتگو بهی عبادت ہے)

«۴»حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ رسول الله صلی الله علیه وسلم تیز تیز اور مسلسل بات نہیں کرتے تهے جس طرح تم (میں سے بعض لوگ) مسلسل بولے چلے جاتے ہو, آپ صلی الله علیه وسلم ٹهیر ٹهیر کر بات کرتے کہ اگر کوئی گننا چاہتا تو گن سکتا تها,
«بخاری»
یعنی انداز_گفتگو اور طرز_بیان نہایت عام فہم و دلکش اور باوقار لہجہ میں ہونا چاہیۓ.

Enhanced by Zemanta