Showing posts with label Hadith. Show all posts
Showing posts with label Hadith. Show all posts

Monday, July 1, 2013

Hadith: Darood ki Fazilat

Hadith: Darood ki Fazilat
Enhanced by Zemanta

Tuesday, June 18, 2013

غیـبت زنــا سے بهی بــدتــــر ہے

☼◙»غیـبت زنــا سے بهی بــدتــــر ہے«◙☼
کیــــوں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

...
"الغیبة اشد من الزنا".
>رواه الديلمی والبيہقی والطبرانی<

"غيبت زنا سے بهی بدتر ہے,"

اس کی کئ وجوه ہیں:

«۱»....
غیبت ظاہر تو ہوتی ہے زبان سے لیکن اس کی جڑ دل میں ہے,
اس لۓ کہ جو شخص غیبت کرتاہے اس کے دل میں کبر ہوتا ہے وه خود کو بڑا سمجهتا ہے اور دوسروں کو حقیر سمجهتا ہے اور کبر اللہ تعالی کے ساتھ شرک ہے،

اللہ تعالی فرماتے ہیں:

"وله الکبریاء فی السموات والارض"
(۳۷-۴۵)

"اور بڑائی تو صرف اسی کیلۓ ہے آسمانوں اور زمیں میں,"

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لایدخل الجنة احد في قلبه مثقال حبة من خردل من كبر"
(رواه مسلم)

"جنت میں کوئی ایسا شخص نہیں داخل ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر کبر ہو,"

غیبت کرنے والے کی نظر دوسروں کے عیوب پر ہوتی ہے اسے اپنے عیوب کی طرف توجہ ہی نہیں رہتی،
اس لۓ ان کی اصلاح کی فکر ہی نہیں رہتی،
جس کی اپنے عیوب پر نظر رہتی ہے اور ان کی اصلاح کی فکر رہتی ہے وه تو ہر وقت اسی فکر میں گهلتا رہتا ہے اور ڈوبا رہتا ہے کہ معلوم نہیں کل قیامت میں میرا کیا بنے گا؟میرا کیا حال ہوگا؟
اس کے دل میں دوسروں کا خیال تو آہی نہیں سکتا
ے

نہ تهی حال کی جب ہمیں اپنی خبر
رہے دیکهتے لوگوں کے عیب و ہنر

پڑی اپنے گناہوں پر جو نظر
تو نگاه میں کوئی برا نہ رہا

«۲»....
غیبت کے زنا سے بدتر ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ زنا خفیہ گناه ہے اور غیبت سب کے سامنے علانیہ کی جاتی ہے، اور جو گناه علانیہ کیا جاۓ وه پوشیده گناه سے زیاده برا ہے,

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"کل امتی معافی الاالمجاهرین"
رواه البخاری و مسلم

"میری پوری امت لائق عفو ہے مگر علانیہ گناه کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جاۓ گا,,"

«۳»....زنا سے توبہ کی امید تو کی جاسکتی ہے، بالفرض توبہ کی توفیق نہ ہوئی تو کم سے کم اقراری مجرم تو ہے، خود کو گنہگار تو سمجهتا ہے
شاید اسی عجز و انکسار اور جرم کے اقرار سے اس کی مغفرت ہوجاۓ لیکن غیبت سے توبہ کی امید بہت کم ہے اس لۓ کہ غیبت کرنے والا خود کو گناه گار سمجهتا ہی نہیں،
بلکہ بہت نیک اور بڑا پاک دامن سمجهتا ہے,

زنا اور بدکاری کو ہر شخص برا سمجهتا ہے، اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے لۓ اس کا نام بهی سننا پسند نہیں کرتا
تو غیبت جو زنا سے بهی بدتر ہے اسے کیوں برا نہیں سمجهاجاتا اور اس سے بچنے کا کیوں ا تمام نہیں کیا جاتا؟؟؟؟؟؟
Enhanced by Zemanta

Wednesday, June 12, 2013

Hadith: Great destroying sins".



Hazrat Anas (May Allah be pleased with him) said: You indulge in (bad) actions which are more insignificant to you than a hair while we considered them at the time of Messenger of Allah [SAWW](PBUH) to be great destroying sins".

[Al-Bukhari 08, Chapter 76, Hadith # 499].

Lesson : as mentioned above in Surah Al-Muminun Ayat 75." And though Allah had mercy on them and removed the distress which is on them, still they would obstinately persist in their transgression." The less fear of Allah, one has the more disobedient he becomes to Him. As the fear of Allah decreases, one becomes more bold in committing sins. As the Companions of the Prophet [SAWW](PBUH) were intensely fearful of Allah, they were afraid of committing even very minor sins.
Enhanced by Zemanta

Monday, June 10, 2013

Hadith: Riyakari

 
اپنے ایمان کی آبیاری کریں!!1

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قیامت کے دن پہلا شخص جس کا فیصلہ کیا جاۓ گا وہ ایک شہید ہوگا۔ اسے لایا جاۓ گا اور اللہ سبحانہ وتعالی اسے اپنی نعمتیں گنواۓ گا اور وہ ان نعمتوں کا اقرار کرے گا۔ پھر اس سے پوچھا جاۓ گا: تم نے ان کے بدلے میں کیا نیک عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں تیری خاطر لڑا یہاں تک کہ شہید ہو گیا۔ اللہ فرماۓ گا: تم نے جھوٹ بولا۔ تو اس لیۓ لڑا تاکہ لوگ کہیں یہ بہادر شخص ہے۔ سو تمہیں بہادر کہا جا چکا۔ پھر اللہ تعالی حکم دے گا کہ اسے اس کے چہرے کے بل گھسیٹو اور (جہنم کی) آگ میں پھینک دو۔ پھر وہ شخص ہوگا جس نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور قرآن کی تلاوت کی۔ پس اسے لایا جاۓ گا اور اللہ اسے اپنی نعمتیں گنواۓ گا اور وہ اللہ ی ان نعمتوں کا اقرار کرے گا۔ اللہ پوچھے گا تم نے ان کے بدلے کیا عمل کیا؟ وہ شخص کہے گا: میں نے علم حاصل کیا اور اس کی تعلیم دی اور قرآن کی تلاوت کی اللہ فرماۓ گا تم نے جھوٹ بولا۔ بلکہ تم نے علم اس لیۓ حاصل کیا تاکہ تمہیں قاری کہا جاۓ پس ایسا کہا جاچکا پھر اللہ حکم دے گا اسے چہرے کے بل گھسیٹ کر جہنم کی آگ میں پھینک دو۔ پھر وہ شخص ہوگا جسے اللہ تعالی نے وسعت دی اور ہر طرح کا مال عطا کیا پس اسے پیش کیا جاۓ گا۔ اللہ سبحانہ وتعالی اسے اپنی نعمتیں گنواۓ گا اور وہ ان نعتوں کا اقرار کرے گا۔ اللہ فرماۓ گا تم نے ان نعمتوں کے بدلے کیا عمل کیا۔ وہ شخص کہے گا: میں نے ہر اس راہ میں مال خرچ کیا کہ جس میں مال خرچ کرنا تجھے پسند ہے۔ اللہ فرماۓ گا تم نے جھوٹ بولا۔ بلکہ تم نے مال اس لیۓ خرچ کیا تاکہ لوگ کہیں کہ یہ شخص سخی ہے اور یہ کہا جا چکا۔ پھر اللہ حکم دے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دو"

[مسلم، نسائ]
Hadith: Riyakari
Enhanced by Zemanta

Sunday, June 2, 2013

AlQuran: Muslim womens keep their eyes down

بسم الله الرحمن الرحیم

اور مسلمان عورتوں کو حکم دو اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنا بناؤ نہ دکھائیں مگر جتنا خود ہی ظاہر ہے اور وہ دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنا سنگار ظاہر نہ کریں مگر اپنے شوہروں پر یا اپنے باپ یا شوہروں کے باپ یا اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا اپنے بھتیجے یا اپنے بھانجے یا اپنے دین کی عورتیں یا اپنی کنیزیں جو اپنے ہاتھ کی مِلک ہوں یا نوکر بشرطیکہ شہوت والے مرد نہ ہوں یا وہ بچّے جنہیں عورتوں کی شرم کی چیزوں کی خبر نہیں اور زمین پر پاؤں زور سے نہ رکھیں کہ جانا جائے ان کا چُھپا ہوا سنگار اور اللہ کی طرف توبہ کرو اے مسلمانو سب کے سب اس امید پر کہ تم فلاح پاؤ

پارہ 18 سورہ 24 سورہ النور آیت 31
...

تفسیر ابن کثیر:- شان نزول:- مروی ہے کہ اسما بنت مرثد رضی اللہ عنہ کا مکان بنو حارثہ کے محلے میں تھا ان کے پاس عورتیں آتی تھیں اور دستور کے مطابق اپنے پیروں کے ذیور سینے اور بال کھولے ہوئے آیا کرتی تھیں حضرت اسماء نے کہا یہ کیسی بری بات ہے اس پر یہ آئیتیں اتری کہ مسلمان عورتوں کو بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھنی چاہیے سوا اپنے خاوند کے کسی کو بہ نظر شہوت نہ دیکھنا چاہیے

تفسیر کنز الایمان:- حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ابو عبیدہ بن جراح کو لکھا تھا کہ کُفّار اہلِ کتاب کی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمّام میں داخل ہونے سے منع کریں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مسلمہ عورت کو کافِرہ عورت کے سامنے اپنا بدن کھولنا جائز نہیں ۔ مسئلہ : عورت اپنے غلام سے بھی مِثل اجنبی کے پردہ کرے ۔ (مدارک و غیرہ)

حُرّہ کا تمام بدن عورت ہے ، شوہر اور مَحرم کے سوا اور کسی کے لئے اس کے کسی حصّہ کا دیکھنا بے ضرورت جائز نہیں اور معالجہ وغیرہ کی ضرورت سے قدرِ ضرورت جائز ہے ۔ (تفسیرِ احمدی)
Enhanced by Zemanta

AlQuran: Allah knows every thing

AlQuran: Allah knows every thing
Enhanced by Zemanta

Backbiting and Budgumani


Hadith: Between the two Blowing of the Trumpet there will be an interval of forty

Hazrat Abu Hurairah (May Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah [SAWW](PBUH) said,
 
"Between the two Blowing of the Trumpet there will be an interval of forty.'' The people said, "O Abu Hurairah! Do you mean forty days?'' He said, "I cannot say anything.'' They said, "Do you mean forty years?'' He said, "I cannot say anything.'' They said, "Do you mean forty months?'' He said, "I cannot say anything. The Prophet added: `Everything of the human body will perish except the last coccyx bone (end part of the spinal cord), and from that bone Allah will reconstruct the whole body. Then Allah will send down water from the sky and people will grow like green vegetables'.''
[Al-Bukhari Book 06, Chapter 60, Hadith # 457]
Lesson : as mentioned above in Surah Al-Hajj Ayat 07."there is no doubt about it, and certainly, Allah will resurrect those who are in the graves"
1. When Israfil blows the Trumpet th...e first time, by Allah's Leave, all those who are in the heavens and on earth will swoon away, except him whom Allah will. This will be the first Blowing. Then, it will be blown a second time, they will become alive and will emerge from their graves. These Blowings are known as the `Blowings of Fainting and Rising'. As regard the interval between these two Blowings, the narrator of the narration, Abu Hurairah (May Allah be pleased with him), could not say anything when he was asked about it; as he himself did not know it. But in other narrations the interval has been mentioned as forty years. 
2. The earth eats away the whole body of humans except the bodies of the Prophets. However, only the end part of the spinal cord remains intact. How it remains intact is known to Allah, but from it mankind will be created again. 3. Bodies will rise from the earth as vegetation springs out from the earth after the rainfall.
 
Enhanced by Zemanta

Hadith: When Allah intends good for His slave

Hazrat Anas (May Allah be pleased with him) reported that: The Messenger of Allah [SAWW](PBUH) said, "When Allah intends good for His slave, He punishes him in this world, but when He intends an evil for His slave, He does not hasten to take him to task but calls him to account on the Day of Resurrection.''
[At-Tirmidhi Hadith # 2396].
Lesson : as mentioned above in Surah Al-Hajj Ayat 14."Allah will admit those who believe (in Islamic Monotheism) and do righteous good deeds " This Hadith shows that, for a Muslim, trials are also a blessing in this world because his sins are forgiven in proportion to the trials he has to face and his reward is increased with the Will of Allah. Thus, a Muslim should always be patient and contented in the event of trial because without these qualities he will not have the privilege associated with them. In fact, his impatience would increase his sins even further.
 
 
Enhanced by Zemanta

Saturday, June 1, 2013

Hadith: Be prompt in doing good deeds

Hazrat Abu Hurairah (May Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah [SAWW](PBUH) said, "Be prompt in doing good deeds (before you are overtaken) by turbulence which would be like a part of the dark night. A man would be a believer in the morning and turn to disbelief in the evening, or he would be a believer in the evening and turn disbeliever in the morning, and would sell his Faith for worldly goods.''
[Muslim Book 01,Chapter 51, Hadith # 213]

Lesson : as mentioned above in Surah Al-Muminun Ayat 44."So away with a people who believe not." This Hadith tells that the Day of Resurrection will be preceded by a long chain of calamities. Because of the rush of these calamities, religion and Faith will loose their value in people. There will be a race for wealth, so much so that people would not hesitate to compromise their religion and Faith to acquire wealth. People will rapidly change their faces. This is what actually happening. In this situation true believers are exhorted to adhere strictly to Faith and perform noble deeds without delay.
 
 
Enhanced by Zemanta

Hadith: The religion (of Islam) is easy

Hazrat Abu Hurairah (May Allah be pleased with him) reported: The Messenger of Allah [SAWW](PBUH) said, "The religion (of Islam) is easy, and whoever makes the religion a rigour, it will overpower him. So, follow a middle course (in worship); if you can't do this, do something near to it and give glad tidings and seek help (of Allah) at morn and at dusk and some part of night".
 
[Al-Bukhari Book 01,Chapter 02, Hadith # 038]
Lesson : as mentioned above in Surah Al-Hajj Ayat 67."For every nation We have ordained religious ceremonies and rituals" Besides moderation in worship, this Hadith enjoins that such times should be fixed for worship when one is fresh so that one feels pleasure in performing it. But this principle is for optional and voluntary prayers only. Obligatory Salat are to be performed at the prescribed times only.
Enhanced by Zemanta

Sunday, May 26, 2013

Hadith: Wazu ki Barkat


  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وآلہ وَسَلَّم) نے فرمایا:
    ''جب مسلمان یا مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو اس کے چہرے سے پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھ کر کیے تھے، پھر جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے۔ تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس کے ہاتھوں نے کیے تھے، پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرے کے ساتھ اس کے وہ تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں جو اس کے پاؤں نے چل کر کیے تھے حتیٰ کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔''

    [ توثیق الحدیث # 129 ، أخرجہ مسلم(244)
    ]
    Hadith: Wazu ki Barkat
Enhanced by Zemanta

Sultan Noor Uddin Zangiسلطان نور الدین زنگی


      • سلطان نور الدین زنگی عشاء کی نماز پڑھ کر سوۓ کہ اچانک اٹھ بیٹھے اور نم آنکھوں سے فرمایا میرے ہوتے ہوۓ میرے آقا میرے نبی صلی اللہ علیھ والہ وسلم کو کون ستا رہا ہے .آپ اس خواب کے بارے میں سوچ رہے تھے جو مسلسل تین دن سے انہیں آ رہا تھا اور آج پھر چند لمحوں پہلے انھیں آیا جس میں سرکار دو عالم نے دو افراد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ مجھے ستا رہے ہیں. اب سلطان کو قرار کہاں تھا،انہوں نے چند ساتھی اور سپاہی لے کر دمشق سے مدینہ جانے کا ارادہ فرمایا .اس وقت دمشق سے مدینہ کا راستہ ٢٠-٢٥ دن کا تھا مگر آپ نے بغیر آرام کیئے یہ راستہ ١٦ دن میں طے کیا. مدینہ پہنچ کر آپ نے مدینہ آنے ور جانے کے تمام راستے بند کرواے اور تمام خاص و عام کو اپنے ساتھ کھانے پر بلایا. اب لوگ آ رہے تھے ور جا رہے تھے ، آپ ہر چہرہ دیکھتے مگر آپکو وہ چہرے نظر نہ آے اب سلطان کو فکر لاحق ہوئی اور آپ نے مدینے کے حاکم سے فرمایا کہ کیا کوئی ایسا ہے جو اس دعوت میں شریک نہیں .جواب ملا کہ مدینے میں رہنے والوں میں سے تو کوئی نہیں مگر دو مغربی زائر ہیں جو روضہ رسول کے قریب ایک مکان میں رہتے ہیں .... تمام دن عبادت کرتے ہیں اور شام کو جنت البقی میں لوگوں کو پانی پلاتے ہیں ، جو عرصہ دراز سے مدینہ میں مقیم ہیں. سلطان نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، دونوں زائر بظاہر بہت عبادت گزار لگتے تھے. انکے گھر میں تھا ہی کیا ایک چٹائی اور دو چار ضرورت کی اشیاء.کہ یکدم سلطان کو چٹائی کے نیچے کا فرش لرزتا محسوس ہوا. آپ نے چٹائی ہٹا کے دیکھا تو وہاں ایک سرنگ تھی. آپ نے اپنے سپاہی کو سرنگ میں اترنے کا حکم دیا .وہ سرنگ میں داخل ہویے اور واپس اکر بتایا کہ یہ سرنگ نبی پاک صلی اللہ علیھ والہ وسلم کی قبر مبارک کی طرف جاتی ہے، یہ سن کر سلطان کے چہرے پر غیظ و غضب کی کیفیت تری ہوگئی .آپ نے دونوں زائرین سے پوچھا کے سچ بتاؤ کہ تم کون ہوں. حیل و حجت کے بعد انہوں نے بتایا کے وہ نصرانی ہیں اور اپنے قوم کی طرف سے تمہارے پیغمبر کے جسم اقدس کو چوری کرنے پر مامور کے گئے ہیں. سلطان یہ سن کر رونے لگے ، اسی وقت ان دونوں کی گردنیں اڑا دی گئیں. سلطان روتے جاتے اور فرماتے جاتے کہ " میرا نصیب کہ پوری دنیا میں سے اس خدمت کے لئے اس غلام کو چنا گیا ".
        اس ناپاک سازش کے بعد ضروری تھا کہ ایسی تمام سازشوں کا ہمیشہ کہ لیے خاتمہ کیا جاۓ، سلطان نے معمار بلاۓ اور قبر اقدس کے چاروں طرف خندق کھودنے کا حکم دیا یہاں تک کے پانی نکل آے .سلطان کے حکم سے اس خندق میں پگھلا ہوا سیسہ بھر دیا گیا. سیسے کی یہ خندق آج بھی روضہ رسول صلی اللہ علیھ والہ وسلم کے گرد موجود ہ
        ے.
Enhanced by Zemanta

Hadith: Value of Education

Hadith: Value of Education

Enhanced by Zemanta

Tuesday, May 21, 2013

Hadith: Agar may aesa kar leta.........

Hadith: Agar may aesa kar leta.........
Enhanced by Zemanta

Hadith: Allah ki Rehmat

Hadith: Allah ki Rehmat
 
حديث : حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شیطان نے اللہ تبارک وتعالی سے کہا :اے میرے رب تیری عزت کی قسم جب تک تیرے بندوں کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں میں انہیں برابر بہکاتا رہوں گا ، اللہ تعالی نے اس کے جواب میں فرمایا : میرے عزت وجلال کی قسم ! جب تک وہ مجھ سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے رہیں گے میں بھی انہیں معاف کرتا رہوں گا ۔
 

( مسند أحمد:3/29 – مستدرك الحاكم :4/261 – مسند أبو يعلى : 1399 )
Enhanced by Zemanta

Monday, May 20, 2013

AlQuran: Know they not that Allah doth know their secret ....

أَلَمْ يَعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوَاهُمْ وَأَنَّ اللّهَ عَلاَّمُ الْغُيُوبِ

کیا انہیں معلوم نہیں کہ اللہ ان کے بھید اور ان کی سرگوشیاں جانتا ہے اور یہ کہ اللہ سب غیب کی باتوں کو بہت خوب جاننے والا ہے

Know they not that Allah doth know their secret (thoughts) and their secret counsels, and that Allah knoweth well all things unseen?

سورہ 9 سورہ التوبہ آیت 78